24 فروری 2017 - 09:13
دہشتگردوں کے ٹوٹی ہوئی کمر کیساتھ ہولناک حملے اور آپریشن ردالفساد کا آغاز

امیدوں کی دنیا پر قائم رہنے والی پاکستانی قوم کو اس آپریشن سے ایک بار پھر امید ہو چلی ہے کہ یہ آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے کے بعد ہی ختم ہوگا۔ اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دہشتگردوں، انکے سہولتکاروں، اداروں میں چھپی کالی بھیڑوں، انتہا پسند مولویوں، دہشتگردی اور فرقہ واریت کی تعلیم دینے والے مدارس، کالعدم جماعتوں اور سیاسی دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز اور بے رحم آپریشن کے ذریعے ہی پاکستانی قوم کے دکھوں کا مداوا ممکن ہے۔ دہشتگردی کا کئی دہائیوں سے مقابلہ کرنے والی پاکستانی قوم کو اب امن نصیب ہونا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ وطن عزیز پاکستان تادم تحریر دہشتگردی کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا بری طرح سے شکار ہے، دہشتگردوں کی کچھ عرصہ قدرے خاموشی ایک طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور حکام بالا کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کہ ’’دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی پے‘‘، بری طرح غلط ثابت ہوئے۔ درندہ صفت دہشتگردوں نے گذشتہ ہفتے محض 4 روز کے دوران ہولناک دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا۔ دہشت گردوں نے سب سے پہلے لاہور کو نشانہ بنایا، جہاں سوموار کے روز چیئرنگ کراس کے مقام پر خودکش حملہ ہوا، جس میں ڈی آئی جی ٹریفک سید احمد مبین زیدی اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد شہید ہوئے۔ افسوسناک سانحہ سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خودکش بمبار کے ایک سہولت کار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ لاہور کے بعد دہشت گردوں نے منظم طریقے سے پشاور، مہمند ایجنسی اور شب قدر میں 4 خودکش حملے کئے، جس میں مجموعی طور پر 4 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید ہوئے۔

پشاور کے علاقے حیات آباد میں موٹر سائیکل پر سوار خودکش بمبار نے خود کو ماتحت عدلیہ کے ججز کو لے جانے والی گاڑی کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں ڈرائیور جاں بحق جبکہ 4 ججز زخمی ہوئے۔ بدھ کے روز ہی ایک خودکش بمبار نے شب قدر (ضلع چارسدہ) میں خود کو دھماکے سے اڑایا، جس میں لائس نائیک شہید ہوا۔ قبائلی علاقہ مہمند ایجنسی میں 2 خودکش بمباروں نے ایجنسی کے ہیڈکوارٹر غلنئی میں پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی، اس دوران جب سکیورٹی فورسز نے بمبار کو روکا تو ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 3 خاصہ داروں سمیت 5 افراد شہید ہوگئے جبکہ دوسرے خودکش بمبار کو فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد اولیاء کی دھرتی سندھ میں معروف روحانی شخصیت اور بزرگ لعل شہباز قلندر (رہ) کے مزار پر ایک ہولناک خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 88 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہیں۔

اس سانحہ نے اے پی ایس واقعہ کی طرح قوم کو ایک بار پھر جھنجوڑ کے رکھ دیا، حکومتی دعووں اور فورسز کی کارروائیوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوگئے، کیونکہ یہ حملہ کوئی معمولی بات نہیں تھی، اگر یوں کہا جائے کہ دہشتگردوں نے پاکستان میں بسنے والے شیعہ، سنی مسلمانوں کے روحانی مرکز پر حملہ کیا تو غلط نہ ہوگا۔ اس دلسوز سانحہ نے کئی یادیں چھوڑ دیں، کئی کہانیوں کو بھی جنم دیا اور کئی نہ بھرنے والے زخم بھی دے دیئے۔ سیہون شریف دھماکے میں شوہر، بیٹے، بہو اور بیٹیوں سے محروم ہو جانے والی بے سہارا معمر خاتون اگلے ہی روز مزار پر پہنچ گئی اور اپنی روداد کچھ اس طرح بیان کی۔ ”بچے زیارت کیلئے درگاہ کے اندر گئے تو دھماکہ ہوگیا، میرا شوہر، دو بیٹیاں، بیٹا اور بہو سب چلے گئے، میرا خاندان ہی اجڑ گیا ہے، مجھے بھی مار دو۔۔۔ اب میں کس کے گھر جاﺅ ںگی، مجھے بھی مار ہی دو۔ اے میرے اللہ میں کہا جاﺅں۔۔۔ کہاں جاﺅں۔۔“۔ دسمبر 2014ء سے 14 فروری 2017ء تک بے شمار کارروائیاں کی گئیں، لیکن اثرات ندارد ہیں، کیا مجرمان کے خلاف موثر کارروائی میں نادیدہ رکاوٹیں کھڑی ہیں۔؟ ملک میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ تعطل کا شکار کیوں ہے۔؟

ماسکو کانفرنس میں شریک پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کی کوشوں میں پیش پیش ہے، جبکہ خود لہو لہو ہے۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال ہو رہی ہے، بھارت اور افغانستان کی بڑھتی ہوئی قربتیں بھی نظر انداز کرنے کے قابل ہرگز نہیں۔ خطے میں امن کے خواہش مند ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ناکام کیوں نظر آرہی ہے۔؟ دہشت گردوں کو چھوٹ ملتی رہی اور 11 برسوں کے دوران ملک بھر میں دہشتگرانہ حملے ہوتے رہے، پاکستان کے عوام دہشت گروں کے لئے مسلسل آسان ہدف بنے ہوئے ہیں۔ تعلیمی ادارے، اسپتال، تفریح گاہیں، مساجد، مزارات، امام بارگاہیں اور مذہبی اجتماعات کو بخشا نہیں جا رہا۔ انتہاء پسندی کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں تو حکومت اور اعلٰی عسکری قیادت اکٹھی کیوں نہیں۔؟ آج ملک سوگ کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے، یہ کیفیت حکمرانوں کے محض تعزیتی بیانات، تفتیش اور تحقیقاتی کمیٹی سے نہیں بدلے گی۔ ملک کو اگر تا دیر امن کا گہوارہ بنانا ہے تو انتہا پسندی کے خلاف آپریشن کے اثرات کو زائل ہونے سے بچانا ہوگا۔ مٹھی بھر عناصر سے ’’آہنی‘‘ ضرب عضب کے ذریعے نمٹنا ہوگا۔

سانحہ سیہون نے اگر ہماری ذمہ دار اور بااختیار قیادت کی روحوں کو نہ جھنجھوڑا تو، ایسی سرکار کی بے حسی پر افسوس نہیں بلکہ شرم کا مقام ہوگا۔ پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ امیدوں کی دنیا پر قائم رہنے والی پاکستانی قوم کو اس آپریشن سے ایک بار پھر امید ہو چلی ہے کہ یہ آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے کے بعد ہی ختم ہوگا۔ اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں، اداروں میں چھپی کالی بھیڑوں، انتہا پسند مولویوں، دہشتگردی اور فرقہ واریت کی تعلیم دینے والے مدارس، کالعدم جماعتوں اور سیاسی دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز اور بے رحم آپریشن کے ذریعے ہی پاکستانی قوم کے دکھوں کا مداوا ممکن ہے۔ دہشتگردی کا کئی دہائیوں سے مقابلہ کرنے والی پاکستانی قوم کو اب امن نصیب ہونا چاہئے۔ مقتدر حلقوں کو ملکی خارجہ اور داخلہ پالیسی پر ہر صورت نظرثانی کرنا ہوگی، اس کے علاوہ نہ پاکستان کی سلامتی ممکن اور نہ ہی مظلوم پاکستانی قوم کی۔

رپورٹ: ایس اے زیدی

.....

/169